بی فار یو کمپنی کی حقیقت کیا ہے ۔۔؟

اس کمپنی کے جو فاؤنڈر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کمپنی ملائشین کمپنی ہے اور یہ 2017سے چل رہی ہے یہ کمپنی ملائشین گورنمنٹ سے رجسٹرڈ ہے اس کمپنی کا جو پہلا ڈومین تھا وہ Bitcoins4U تھا جن لوگوں نے اس کمپنی کو 2019 یا اس کے کچھ ٹائم پہلے جوائن کیا شاہد ان کو اس بات کا علم نہ ہوں کہ اس کمپنی کا پہلا ڈومین کون تھا وہ Bitcoins4U تھاپھر کچھ عرصہ بعد اس ڈومین کو بند کردیا گیا تھا پہلے ڈومین کو بند کرنے کے بعد ویب سائٹ کو نئے نام پر ٹرانسفر کیا گیا پھر نیا ڈومین B4UTrades.com تھا ا س ڈومین کو کمپنی نے 2018میں پرچیز کیا پھر کچھ عرصہ بعد اس ڈومین کو بھی بند کردیا گیا ایک ہیکر حملے کا بہانہ لگا کر ابھی کمپنی جو ڈومین استعمال کررہی ہے وہ B4UGlobal.com ہے اب آپ اندازہ لگائیں کہ کمپنی نے 2017ء سے ابتک کتنی ڈومین تبدیل کی جبکہ ایک پروفیشنل کمپنی کبھی بھی اپنا نام بار بار تبدیل نہیں کرتی کیونکہ ایک ڈومین ہی کمپنی کی اصل پہچان ہوتی ہے یہ کمپنی بار بار ہیکنگ کا بہانہ بتاتی رہی کوئی ہیکنگ نہیں تھی یہ ان لوگوں کی سازش تھی انہوں نے خود اپنی ویب سائٹ کے انڈیکس پیج کے اوپر ایک ہیکنگ اٹیک کا میسج لکھا اور لوگوں میں یہ بات پھیلا دی کہ ان کی ویب سائٹ کے اوپر ہیکنگ اٹیک ہوا ہے ان کا جو پہلا ڈومین تھا Bitcoins4U اس ڈومین کو رجسٹرڈ کرواتے وقت جو نام ان لوگوں نے دیا تھا وہ میزان بن اسماعیل تھا جب ان کی پہلی ویب سائٹ ہیک ہوئی تو اس کے اوپر جو ہیکر نام آرہا تھا وہ اسماعیل ہی شو ہورہا تھا سمجھدار لوگوں کے لیے اشارہ کافی ہے یہ ہیکنگ اٹیک تھا یا انہوں نے خود ہی یہ سازش کی تھی جب ویب سائٹ پر اٹیک ہوا تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ کمپنی کی ویب سائٹ پر اٹیک ہوا ہے آپ کا سارا ڈیٹا ہمارے پاس محفوظ ہے آپ کو جلد منافع مل جائے گا حالانکہ ہیکر جب بھی اٹیک کرتے ہیں تو کبھی بھی اپنا ٹائم ویسٹ کرنے کے لیے کسی کمپنی کی ویب سائٹ پرا ٹیک نہیں کرتے وہ تب اٹیک کرتے ہیں جب وہ وہاں سے کوئی بڑی چوری کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ورنہ نہیں اب Bitcoins4U پر ہیکر نے اٹیک کیا اور صرف اپنا نام لکھا اور چلا گیا ایسا ممکن نہیں کوئی بھی اتنا فارغ نہیں کہ وہ کسی ویب سائٹ کو اس صورت میں ہیک کرے کہ اس کا نام آجائے اس کے بعد آپ اپنی ویب سائٹ کو مضبوط کریں نہ کہ ڈومین تبدیل کردیں ویب سائٹ پر جب اٹیک ہوتا ہے تو بندہ پھر جس سور س سے اٹیک ہوا ہو اس سورس سے اپنی ویب سائٹ کو مضبوط کرتا ہے ڈومین کوئی نہیں تبدیل کرتا اب یہ بار بار ڈومین بدلنے کے پیچھے جو سازش ہے وہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے پہلی ڈومین پر پیمنٹ کی وہ ڈومین بند ہوگیا اس کا جواب ان کے پاس یہی ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں آپ کے سامنے ویب سائٹ ہیک ہوگئی جبکہ اس ہیکنگ کے پیچھے بھی یہی لوگ ہیں۔

کمپنی کی رجسٹریشن کی تفصیل ۔

جیسا کہ آپ کو بتایا کہ اس کمپنی کے جو مالک ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ کمپنی ملائیشین گورنمنٹ سے رجسٹرڈ ہے اور جو سرٹیفکیٹ یہ لوگوں کو دیکھاتے ہیں اس سرٹیفکیٹ میں جو ویب لنک ہے وہ www.b4uwallet.com ہے یہ ان کا ایک الگ ڈومین ہے جو کہ ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینج ہے اس میں آپ صرف ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینج کرسکتے ہیں انویسٹمنٹ نہیں ہوسکتی اور سرٹیفکیٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کمپنی صرف ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینج کرسکتی ہے ان کے جو بزنس پلان ہیں وہ اس طرح کرکے ہیں کہ جب آپ انویسٹمنٹ کرتے ہیں تو یہ ایک سال میں آپ ہی کے پیسے تھوڑے تھوڑے کرکے آپ کو لوٹاتی رہتی ہے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں پرافیٹ آرہا ہے جبکہ پرافیٹ نہیں وہ آپ ہی کے پیسے آپ کو واپس دئیے جارہے ہیں ملائشیا میں یہ قانون ہے کہ جس کمپنی نے لوگوں سے رقوم لینی ہوں اسے وہاں کی سیکورٹی اکسچینج میں رجسٹرڈ ہونا پڑتا ہے جبکہ جس کمپنی نے کسی سے کچھ نہیں لینا اس کا اپنا کاروبار ہے ایس ایس ایم میں رجسٹرڈ ہونا پڑتا ہے جبکہ بی فار یو ایس ایس ایم میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہے بی فار یو ایک کمپنی ہے جس کے تحت کئی کمپنیاں کام کرتی ہیں یہ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں لیکن بی فار یو خود پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس کی وجہ یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بی فار یو کا ایک بزنس کرپٹو کرنسی میں انوسٹمنٹ کرنا بھی ہے کرپٹو کرنسی چونکہ پاکستان میں قانونی حیثیت نہیں رکھتی اس لیے بی فار یو کو بھی رجسٹرڈ نہیں کروا سکتے دوسری جانب یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں ہم پاکستان میں جو رقم انویسٹرز سے لیتے ہیں وہ کرپٹو کرنسی میں نہیں لگاتے سوال یہ ہے کہ پھر آپ رجسٹرڈ کیوں نہیں کرواتے کیونکہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد انہیں اپنی آمدنی اور اخراجات کا حساب دینا پڑے گا پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی کمپنی اس وقت تک لوگوں سے پیسے نہیں لے سکتی جب تک اس کے پاس ضروری لائسنس نہ ہو۔
کمپنی کے مالک کا کہنا ہے ہماری کمپنی 28ممالک میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے مان لیتے ہیں کسی بھی ویب سائٹ پر ٹریفک کا پتہ لگانا ہوتو آپ
www.alexa.com

پر جاکر اس ویب سائٹ کی ٹریفک کا پتہ لگا سکتے ہیں کہ اس ویب سائٹ پر کس کس ملک کے اور کتنے وزٹرز روزانہ آتے ہیں جبکہ بی فار یو میں صرف تین ممالک کے لوگ روزانہ وزٹ کرتے ہیں پہلے نمبر پہ پاکستان دوسرے پہ خود ملائیشین اور تیسرے پہ کچھ تھوڑی بہت تعداد سعودی عرب کی ہے 28ممالک والابھی مکمل جھوٹ ہے۔

خلاصہ یہ نکلا کی بی فار یو ابتداء سے انتہاء تک ایک خطرناک اور مشتبہ کاروبار ہے اگریہ مضاربہ اسکینڈل کی طرح کا سلسلہ ہوا تو یہ ایک انتہائی خطرناک اسکینڈل نکلے گا ان کی باتیں سن کر اور ان کی دی ہوئی چیزیں دیکھ کر ہمارے سادہ لوح لوگ بغیر سوچے سمجھے اس میں رقم لگا رہے ہیں پھر رقم لگانے کے بعد وہ دوسروں کو بھی راغب کرتے ہیں جس کا ان کو کمیشن ملتا ہے اور وہ آگے مزید لوگوں کو راغب کرتے ہیں اس قسم کی کمپنیاں درجن بھر لوگوں کو فائدہ پہنچا کر باقی لوگوں کو ان کی وساطت سے لوٹ لیتی ہیں بی فار یو کچھ کاروبار صراحتاً ناجائز ہیں اور باقی مشتبہ ہیں۔

بی فار یو جو پاکستان میں سرے سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اگر وہ آپ کے پیسے لے کر بھاگ جائے تو کیا کرو گے سوچئیے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں