میڈیا کی یلغار میں بچوں کی دینی تربیت کا مسئلہ والدین کو کیا کرنا چاہئے ۔۔؟

تخلیق آدم سے لیکر موجودہ زمانے کے تیزی سے بدلتے ماحول میں ہر لحظہ نئی نسل کا تمدنی تحفظ اہم مسئلہ رہا ہے والدین کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اخلاقی لحاظ سے بہتر ہوں ان کی امنگوں کے حقیقی ترجمان ہوں وہ صرف معاشی و سماجی لحاظ سے کامیاب نہ ہوں بلکہ دینی و اخروی معاملے میں بھی بہترین درجے پر فائز ہوں
میڈیا کی ترقی سے پہلے جبکہ دنیا کا ہر خطہ صرف اپنی حدود میں قید تھا یہ معاملہ بڑا آسان تھا پرانی نسل اپنی آئندہ نسلوں تک اپنی مرضی کا نقطہ نظر پنہچا دیتی جبکہ استاد نصاب اور سماج نسبتا ایک ہی طرز کا بیانیہ رکھتے تھے نتیجتا بچہ اپنے باپ کے خیالات کا عکس ہوتا تھا تبدیلی کی شرح بہت آہستہ اور نئے نظریات سے مطابقت زیادہ مشکل نہیں ہوتی تھی
میڈیا کی ترقی کے بعد لیکن یہ اچھے بچے والی آسان راہ مشکل ہو گئی کہ ٹی وی نے آ کر والدین کیلئے کئی مسائل کھڑے کر دیے بچے جو پہلے بہت محفوظ تھے کہ آپ انہیں جو چاہیں سکھا دیں ان کی رسائی محدود تھی لیکن اب ٹی وی نے انہیں ڈرامہ فلم اور تھیٹر جیسی دلچسپ دنیا سے متعارف کر وا دیا اس زمانے میں والدین بچوں کو ٹی وی سے دور رکھنے کے سو جتن کرتے تھے کہ ٹی وی بچوں کو خراب کر دیتا ہے لیکن ٹی وی کے دور میں بچوں کو روکنا ایک حد تک ممکن تھا لیکن زمانہ رکتا نہیں ہے جیسے اقبال نے کہا تھا
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
یعنی تبدیلی ہی کائنات کی مستقل قدر ہے ہر چیز نے بدلنا ہے اور جیسے زمانہ رکتا نہیں ہے وقت ہر لمحہ گزرتا جاتا ہے ایسے ہی گزرا ہوا زمانہ واپس نہیں لوٹ سکتا بلکہ ہمیں بدلتے وقت میں آنیوالے حالات سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہے پہیے کی ایجاد سے پہلے کا زمانہ بیل گاڑی کے بعد بھلا دیا گیا کیونکہ بیل گاڑی نئی حقیقت تھی پھر موٹر کار اور ریل آئی اور فاصلے سمٹنا شروع ہوئے یہ زمانہ بیل گاڑی کو پیچھے چھوڑ کر نکل گیا تانگہ تو ابھی کل کی بات تھی شاہی سواری ہر جگہ منگو تانگے والے کی یاد دلاتی تھی لیکن اب آپ دوبارہ تانگہ بطور مقبول سواری رائج نہیں کروا سکتے کیونکہ نئی حقیقت موٹر سائیکل اور رکشہ ہے جب زمانہ کروٹ بدلتا ہے تو پچھلا دور صرف میوزم میں ہی دیکھا جا سکتا ہے لہذا موجودہ زمانہ مزید تیزی کے ساتھ ہر دن نئی ایجادات لا رہا ہے اور یہ ایجادات بلاشبہ آپ کی مرضی کے خلاف بھی اپنا مواد اور اثر پنہچا رہی ہیں تو پھر کیا موجودہ حالات میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی آلات سے دور رہا جائے شاید اب یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا بن چکی ہے تعلیم ، معیشت سےلیکر خاندانی روابط تک ہر جگہ ٹیکنالوجی قبضہ کر چکی ہے اگر آپ جدید ذرائع سے دور ہوتے ہیں تو زندگی میں ترقی کرنا ناممکن ہے
تو پھر حل کیا ہے انٹرنیٹ کی دنیا غیر اخلاقی مواد اور لادینی نظریات سے بھری پڑی ہے اور بچے متاثر ہوتے ہیں تو کیسے بچا جا سکتا ہے حل یہ نہیں ہے کہ جدید دنیا سے منہ موڑا جائے بلکہ اب والدین کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اپنے بچوں کو کمپیوٹر سمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے خود متعارف کروائیں بلکہ انہیں ان ذرائع کا ماہر بنائیں اور ساتھ ہی ان ذرائع کے مثبت اور منفی پہلوؤں بارے آگاہی دیں تاکہ وہ نئی دنیا سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنا دینی و اخلاقی تحفظ کر سکیں ۔ بچوں کو ایسی وڈیوز خود دیکھنے کیلئے ڈاؤن لوڈ کر دیں جس میں تعلیم اخلاق اور انٹرٹینمنٹ ہو جس میں کائنات کی حیرت زدہ وسعت اور بنیادی سائنسی دلچسپ تصویری حقائق ہوں اور انہیں جدت کیساتھ دین سمجھنے میں آسانی ہو آج وہی ممالک دنیا میں حکومت کر رہے ہیں جنہیں علمی سطح پر برتری حاصل ہے اور یہ علمی برتری سائنس و ٹیکنالوجی کی مناسب تعلیم سے ہی ممکن ہے ۔
آج کے والدین اپنے بچوں سے غفلت نہیں برت سکتے ورنہ بچوں کا راہ راست سے بھٹکنا یقینی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ موجودہ دور میں والدین اتنے مصروف ہیں کہ بچوں کو وقت دینا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اب بچہ بہت جلدی سیکھتا ہے اگر والدین خود نہیں سکھائیں گے تو وہ غلط طریقے سے معلومات حاصل کرے گا جو بچے کیلئے درست ثابت نہیں ہو گی لہذا اولاد انسان کا قیمتی ترین سرمایہ ہوتی ہے جسے آنیوالے وقت میں قوم کی باگ ڈور سنمبھالنی ہے اپنا وقت اپنے بچوں کو دیں تاکہ وہ لائق دین دار اور جدید ذرائع سے واقف اچھے شہری ثابت ہوں جس سے قوم ترقی کر سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں