علم ہیئت و فلکیات (Astronomy) کے میدانوں میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات کیا ہیں ۔۔؟

علم ہیت و فلکیات کے میدان میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہوں نے یونانی فلسفے کے گرداب میں پھسنے الہیت کو صحیح معنوں میں سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔ مغربی زبانوں میں اب بھی بے شمار اجرام سماوی کے نام عربی میں ہیں۔ کیونکہ وہ مسلم ماہرین فلکیات کی دریافت ہیں۔

عظیم مغربی مورخ Pror Hittleلکھتا ہے۔

Not only are most of the star names in European Languages of Abaric origins but a numbers of technical terms are likewise of Arabic etymology and testify to the rich legacy of Islam to Christian Europe.
(History of the Arabs, pp:568-573)

ترجمہ: یورپ کی زبانوں میں نہ صرف بہت سے ستاروں کے نام عربی الاصل ہیں بلکہ لاتعداد اصلاحات بھی داخل کی گئی ہیں جو یورپ پر اسلام کی بھرپور وراثت کی مہر ثبت کرتی ہیں۔
اندلس کے عظیم مسلمان سائنسدان ابن راشد جسے مغرب میں Averroes کے بدلے ہوئے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نے سورج کی سطح کے دھبوں کو پہچانا۔ کیلنڈر کی اصلاحات ’عمر خیام‘ نے مرتب کیں۔ خلیفہ مامون الرشید کے زمانہ میں زمین کے محیط کی پیمائش عمل میں آئیں، جن کے نتائج کی درستگی آج کے ماہرین کے لئے بھی حیران کن ہے۔ سورج اور چاند کی گردش، سورج گرہن، علم المیقات اور بہت سے سیاروں کے بارے میں غیر معمولی سائنسی معلومات بھی البتانی اور البیرونی جیسے نامور مسلم سائنسدانوں نے فراہم کیں۔ مسلمانوں کی علم المیقات (Timekeeping)کے میدان میں خصوصی دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ اس علم کا تعلق براہ راست نمازوں اور روزوں کے معاملات سے تھا۔ یار رہے کہ البتانی البتانی اور البیرونی کا زمانہ صرف تیسری اور چوتھی ہجری کا ہے گویا یہ کام بھی آج سے گیارہ سو سال قبل انجام پذیر ہوئے۔
پنج وقتی نمازوں کے تعین اوقات کی غرض سے ہر طول و عرض بلد پر واقع شہروں کے لئے مقامی ماہرین تقویم و فلکیات نے الگ الگ کیلنڈر وضع کئے۔
ر مضان المبارک کے روزوں نے طلوع و غروب آفتاب کے اوقات کے تعین کے لئے پوری تقویم بنانے کی الگ سے ترغیب دی، جس سے بعد ازاں ہر طول بلد پر واقع شہر کے مطابق الگ الگ کیلنڈر اور پھر مشترکہ تقویمات کو فروغ ملا۔ یہاں تک کہ تیرھویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر موقت کا عہد وجود میں آگیا، جو ایک پیشہ ور ماہر فلکیات ہو تا تھا۔
مغرب کے دور جدید کی مشاہداتی فلکیات میں استعمال ہونے والا لفظ Almanac بھی عربی الاصل ہے اس کی عربی اصل المناخ (موسم) ہے۔ یہ نظام بھی اصلا مسلم سائنسدانوں نے ایجاد کیا تھا۔ شیخ عبدالرحمن الصوفی نے اس موضوع پر ایک عظیم کتاب صور الکواکب کے نام سے تصنیف کی تھی،جو جدید علم فلکیات کی بنیاد بنی۔ مستزاد یہ کہ اس باب میں ابن الہیثم جسے اہل مغرب لاطینی زبان میں Alhazen لکھتے ہیں۔ کی خدمات بھی ناقابل فراموش سائنسی سرمایہ ہے۔ علم ہیت و فلکیات اور علم نجوم ضمن میں اندلسی مسلمان سائنسدانوں میں اگرچہ علی بن خلاف اندلسی اور مظفرا لدین طوسی ہجری میں قرطبہ کے عظیم سائنسدان عباس بن فرناس نے اپنے گھر میں ایک کرہ تیار کررکھا تھا جو دورجدیدکی سیارہ گاہ کی بنیاد بنا۔ اس میں ستارے، بادل بجلی اور بجلی کی گرج چمک جیسے مظاہر فطرت کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں