حساب الجبرا جیومیٹری کے موجد ( ایجاد) کون لوگ تھے۔

حساب الجبرا اور جیومیٹری کے میدان میں ’الخوارزمی‘کے نام سے ہی ماخوذ ہے۔ ان کی کتاب ”الجبرو المقابلہ“ کا بارہویں صدی عیسوی میں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ کتاب سولہویں صدی عیسوی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بنیادی نصابی کتاب (Textbook)کے طور پر پڑھائی جاتی رہی اور اُسی سے عالم مغرب میں الجبرا متعارف ہوا۔
اس کتاب میں ”تفریق کے معکوس (Integration)اور مساوات کی آٹھ سو سے زاہد مثالیں دی گئی تھیں۔ مستزاد یہ کہ یورپ میں Trigonometrical functions کا علم البتانی کی تصانیف کے ذریعے اور Tangentsکا علم ابوالوفا کی تصانیف کے ذریعے پہنچا۔ اسی طرح صفر کا تصور مغرب میں متعارف ہونے سے کم از کم 250سال قبل عرب مسلمانوں میں متعارف تھا۔
ابوالوفاء، الکندی، ثابت بن القراء، الفارابی، عمر خیام، نصیرالدین طوسی، ابن البنا ء المراکشی، ابن حمزہ المغربی، ابوالکامل المصری اور ابراہیم بن سنان وغیرہ کی خدمات Trigonometryاور Geometry, Algebra Arithmeticوغیرہ میں تاسیسی حیثیت کی حامل ہیں۔

حتیٰ کہ ان مسلمان ماہرین نے باقاعدہ اصولوں کے ذریعے mechanicsاورopticsکو بھی خوب ترقی دی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ المراکشی نے mathematicsکی مختلف شاخوں پر 70کتابیں تصنیف کی تھیں۔ جو بعد ازاں اس علم کا اساسی سرمایہ بنیں۔ الغرض مسلم ماہرین نے علم ریاضی کو یونانیوں سے بہت آگے پہنچا دیا اور یہی اسلامی کام جدید mathematics کی بنیاد بنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں