پاکستان میں ”سی آئی اے“ کس طرح دہشت گردی کروا رہی ہے۔؟

آج پوری دنیا کے امن کو تباہ کرنے والی تنظیم سی آئی اے کی عمر پاکستان جتنی ہے سی آئی اے کا شمار دنیا کی خطرناک ترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے۔ واشنگٹن سے 8میل دور ریاست ورجینیا میں 125ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی جدید طرز کی اس عمارت میں دنیا کے تمام معاملات کا ریکارڈ موجود ہے وسطی ایشیائی صورت حال ہو یا روس اور چین کے ایٹمی و مالی معلومات، ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی یا افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کو درپیش چیلنجر، پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ اور اندرونی انتشار،عرب یا مسلم ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی کے لئے آئندہ حکمت عملی اور پالیسی، دنیا کا کوئی ملک نہیں جو اس وسیع و عریض عمارت کے کسی گوشہ میں زیر بحث نہ آتا ہو۔ سلطنتوں کے اتارچڑھاو،شکایات اور اسلحہ کی عالمی منڈیوں، حکمرانی، سیاست دانوں، خصوصی افسروں، سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات کی ذاتی زندگی کی تفصیلات، مختلف ممالک کی حکومتوں کی خفیہ ترین دستاویزات،مہلک ہتھیاروں کے استعمال، مستقبل میں دنیا کا نقشہ اور امریکہ کی بالادستی،یہ وہ تمام امور ہیں جن سے نمٹنا اس ایجنسی کا مشن ہے۔ 1947ء میں صدر ٹرومین نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ پر دستخط کرکے سی آئی اے کے متعلق یہ کہنا پڑا کہ کمیونزم کے امریکہ اور یورپ کے خلاف پروپیگنڈا کا جواب دینے کے لئے سی آئی اے ،اس کی ہرگز توقع نہ رکھی گئی تھی کہ یہ ادارہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کرے گا۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہم دنیا میں خود مختیار ملک ہیں۔ ہماری جمہوریت اور آزاد سیاسی اداروں کے سبب ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ”سی آئی اے“ ایسے انداز میں کام کررہی ہے کہ جس سے ہماری اس حیثیت کو دھچکا پہنچا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اس ادارے کی اصلاح ضروری ہے۔ حقیقت میں صدر ٹرومین ”سی آئی اے“ کی سرگرمیوں پر اظہار افسوس کررہا تھا کہ 1960ء میں روس، برما، انڈونیشیا، لاوس، ویت نام اور بہت سی دوسری جگہوں پراس کی سر گرمیاں تھیں جس کے سبب امریکہ کے قومی وقار کو نقصان پہنچا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ”سی آئی اے“ نے شروع ہی سے یعنی 1951ء میں منصوبہ جات ڈویژن خفیہ منصوبوں کے لئے قائم کیا تھا۔ سی آئی اے کے نقادوں کو اس کی سرگرمیوں کی کوئی زیادہ خبر نہیں ہوتی ان کی زیادہ ترنکتہ چینی تین قسم کی ہوتی ہے۔ اول سی آئی اے کی اپنی خارجہ پالیسی ہے دوئم اس کی سرگرمیاں صدر اور گانگرس کے کنٹرول سے باہر ہوتی ہیں۔ اپنے جنگی منصوبوں کو برحق قرار دینے کیلئے انہیں خفیہ رکھنا۔ ماہرین کے مطابق کانگرس کو سی آئی اے کی بڑھتی ہوئی دخل اندازی کی اطلاعات سے بھی بے خبر رکھا جاتا ہے امریکہ ک اندر سی آئی اے کی سرگرمیوں کو وسعت دینے، اس ادارے کی سرگرمیوں اور کاروبار کو دوسرے سرکاری اداروں کے ذریعے چلانے، ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے اور اشاعت گھر چلانے کا کوئی جواز نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدر کو معلوم نہیں ہوتا یا یہ سب کچھ سی آئی اے اپنی مرضی سے کرتی ہے لیکن عملی میدان میں سی آئی اے اور اس کے دوسرے ادارے حالات اور واقعات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کیلئے آزاد ہوتے ہیں خلیج پگز کی حد بندی میں سی آئی اے کے افسروں نے جلاوطن کیوبن باشندوں میں سے اپنی مرضی کے رہنما منتخب کئے۔ سی آئی اے کے افسر اکثر یہ کہتے ہیں کہ مقررہ پالیسی سے صدر کبھی انحراف نہیں کرتے جب کوئی پالیسی واضح کردی جاتی ہے تو اسے بدلنا صدر کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ امریکی صدر کو ہروقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی سی آئی اے اہلکار بعض ضروری اطلاعات کو اخبارات یا کانگرس کے حوالے کرکے اس کی پالیسی کو ناکام نہ بنا ڈالے۔ نیویارک ٹائمز نے سی آئی اے کے حوالے سے لکھا تھا کہ سی آئی اے نے پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان جو صدر پاکستان تھے 1960ء سے 1974ء تک 9لاکھ 60ہزار ڈالر کی رقم بطور سیاسی رشوت دی اور یہ سلسلہ ان کے انتقال پر ختم ہوا۔
سی آئی اے کے خفیہ منصوبوں کے متعلق گمراہ کن بیانات بھی انتخابات کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جس کی مثال پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن تھا جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اسٹیج کیے ہوئے ڈرامے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ ڈرامہ سی آئی اے نے پورے دس سال کی افغانستان میں ناکامی کے بعد رچایا تاکہ عوام کو افغانستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف جاری جنگ کا جواز پیش کرسکیں۔ اسامہ بن لادن کی موت امریکی صدر کو انتخابات میں کافی معاون ثابت ہوئی 9/11بھی سی آئی اے کا ہی پلان تھا کہ اسامہ بن لادن کا بہانہ بناکر افغانستان پر قبضہ کیا جائے افغانستان پر حملے کے بعد بہت سے سی آئی اے کے اہلکار اور ایجنٹ پاکستان میں موجود رہے جس پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے امریکہ پر واضح کیا گیا تھا کہ سی آئی اے کے ایجنٹس پاکستان میں کم کیے جائیں ان کی وجہ سے ہمارے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ راز کی بات نہیں رہی کہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی خفیہ ایجنٹ مقیم ہیں ان کی اکثریت تخریبی سرگرمیوں اور ایٹمی جاسوسی کی ماہر ہے۔ لاہور میں تین اشخاص کے قاتل ریمنڈ ڈیوس جو سی آئی اے کا ایجنٹ تھا جس کے لیے امریکی صدر باراک اوبامہ نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ یہ سفارت کار ہے اس کو فوری طور پر رہا کیا جائے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے اس خفیہ ایجنٹ کو امریکی دباو کے تحت پاکستانی قانون و آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چھوڑا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کا وہ ایجنٹ تھا جس نے پشتو، فارسی اور اردو زبان سیکھی ہوئی تھی اپنی ٹریننگ کی وجہ سے وہ کافی عرصہ افغانستان میں ایک مسجد میں امام مسجد بھی رہا۔سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں یہاں پر برکلے یونیورسٹی امریکہ کے تعلیمی پروگرام کے تحت لاہور میں برکلے اردو پروگرام کا اجراء کیا گیا تھا اس پروگرام کے تحت امریکیوں نے پاکستان آکر اردو زبان سیکھی اور اس دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں مختلف خاندانوں کے ساتھ بطور Paying Guest رہائش پذیر ہوئے۔ یہاں پر رہ کر انہوں نے مقامی کلچر اور یہاں کی سماجی رسومات کے علاوہ مذہبی تعلیمات سے بھی آگاہی حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق اب ان ہی امریکیوں کو سی آئی اے نے خصوصی تربیت دیکر پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیلا رکھا ہے۔پرویز مشرف دور میں کہا جاتا ہے کہ امریکیوں کو کھلے عام چھٹی تھی کہ جب چاہے جہاں چاہے جاسکتے ہیں ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ مشرف دور میں ہزاروں امریکی اہلکار اسلحے سمیت پاکستان آئے اور زرداری دور حکومت میں بے شمار سی آئی اے ایجنٹ اور دوسرے امریکی آرمی کے اہلکار ٹریننگ کے نام پر موجود ہیں ان امریکی اہلکاروں کی موجودگی میں پاکستان میں دہشت گردی ہے ملک کے اندر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں جن کم عمر نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے ان کے پیچھے ان خفیہ ایجنٹوں کا ہی ہاتھ ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ایجنٹ اردو بولنے، لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں کے جغرافیائی محل وقوع سے بھی مکمل طور پر آشنا اور آگاہ ہیں اکیلے سفر کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ 9/11کے بعد امریکہ کو پرویز مشرف سے بہتر شخص نہیں ملا جس نے امریکہ کے تمام احکامات کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کیا امریکہ آٹھ سال تک پرویز مشرف کی پشت پر کھڑا رہا تاکہ خطے میں جو جنگ گریٹ گیم کے نام پر کھیلی جارہی تھی اس کو آسانی کے ساتھ کھیلا جائے بلاشبہ پرویز مشرف سے بڑا پاکستان کی تاریخ میں نہ کوئی غدار گزرا اور نہ وطن فروش یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان اندرونی و بیرونی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں