جوبائیڈن کی سیاسی و نجی زندگی کا مکمل احوال جانئیے ۔

سطحی طور پر شاید امریکی ڈیموکریٹک امیدوار اور ان کے مدمقابل میں شاید کوئی خاص فرق نظر نہ آئے۔ لیکن جو بائیڈن کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر نظر دوڑائیں تو ان میں اور صدر ٹرمپ میں فرق صاف ظاہر ہے۔
اس الیکشن میں دونوں امیدواروں کی عمر پر کافی بحث ہوئی۔
اپنے شوبز کے تجربے اور رنگین مزاجی کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ قدرے دلچسپ امیدوار کے طور پر سامنے آئے اور ان کے جلسوں اور ریلیوں میں جوش و خروش نظر آیا۔

ان کی نسبت جو بائیڈن قدرے ضعیف رہنما کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ وہ امریکی سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور کوئی نصف صدی سے واشنگٹن کے ایوانوں میں متحرک رہے ہیں۔
جوبائیڈن کا تعارف

جوبائیڈن کی پیدائش ریاست پینسلوینیا کی شہر سکرینٹن میں ہوئی۔ پچپن میں گھر والے ریاست ڈیلاویئر متقل ہوگئے۔ انہوں نے 1972ء میں وہاں سے امریکی سینٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتا۔ اور پھر بار بار جیتتے چلے گئے۔ انہوں نے 1988ء اور پھر 2008 ء امریکی صدارت کے لیے کوششیں کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

جو بائیڈن نے اپنی ذاتی زندگی میں بارہا صدمے دیکھے ہیں۔ سن 1972ء میں سینٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتتنے کے فوری بعد ان کی اہلیہ اور چھوٹی بچی ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اس ایکسیڈینٹ میں ان کے دو لڑکے زخمی ضرور ہوئے لیکن بچ گئے۔ جو بائیڈن کو اس وقت اپنی رکنیت کا حلف ہسپتال سے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے دوران لینا پڑا تھا۔

پھر سن 2015ء میں ان کے ایک 26 سالہ صاحبزادے بیو بائیڈن کا دماغی کینسر کے باعث انتقال ہوگیا۔ جو بائیڈن کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ ان کے صاحبزادے مقامی سیاست کے ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھے جا رہے تھے اور سن ۲۰۱۶ میں ریاستی گورنر کے عہدے کے الیکشن کی تیاری کررہے تھے۔

ڈیموکریٹ ووٹرز کی نظر میں جو بائیڈن جس انداز میں نجی زندگی میں ان سانحات سے نمٹے، اس سے ان کی ہمت اور حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران جو بائیڈن نے بارہا اپنے ان تجربات کا ذکر کیا اور امریکا کے نظام صحت میں اصلاحات پر زور دیا۔

خارجہ امور کے ماہر

صدر ٹرمپ کے برعکس جو بائیڈن عالمی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تین بار سینٹ کی طاقتور امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ سن 2008ء میں جب وہ صدر باراک اوباما کے نائب صدر کے امیدوار قرار پائے تو اس میں ان کے اس تجربے کا بڑا عمل دخل تھا۔

جو بائیڈن اور پاکستان

صدر ٹرمپ کی نسبت جو بائیڈن پاکستان کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں اور وہاں سول ملٹری عدم توازن کے مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔

سن 2008ء میں انہوں نے ریپبلکن قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا پیکج تیار کیا جس کا نام “بائیڈن لوگر بل” تھا۔ تاہم ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس بل کا نام وزیر خارجہ جان کیری کے نام سے منسوب ہوا اور سن ۲۰۰۹ میں صدر اوباما نے “کیری لوگر بل” کی منظوری دی۔

جو بائیڈن سمیت امریکی قیادت کی خواہش تھی کہ اس امداد کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کے تسلسل، آزاد عدلیہ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایکشن کی ترغیب دی جائے۔ لیکن پاکستان میں عسکری قیادت کے شدید اعتراضات کے بعد یہ امدادی پیکج متنازعہ بن گیا۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بطور امریکی نائب صدر ان کے اسلام آباد کے ایک دورے میں ان سے بارہا پوچھا گیا کہ اگر امریکا پاکستان کا اتحادی ہے تو آئے دن قبائیلی علاقوں میں ڈرون حملے کرکے اس کی خودمختاری کیوں پامال کرتا ہے؟

اس موقع پر انہوں نے جو جواب دیا اس سے ان کی پاکستان کے بارے میں سمجھ بوجھ واضح ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا اپنے تیس سالہ تجربے کی بنیاد پر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا ملکی دفاع میں زبردست کردار رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری کوئی پامال کرتا ہے تو وہ یہاں بیٹھے انتہاپسند ہیں جو آپ کے ملک کا نام خراب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارا مقصد آپ کی قیادت اور آپ کے وزیراعظم کے ساتھ مل کر آپ کی خودمختاری بحال کرنا ہے جسے انتہاپسند پامال کررہے ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں