ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر اہم پیغام۔

ہر سال 28جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس موذی وائرس کے انفیکشن کے بارے میں شعور پیدا کیا جاسکے۔ ہیپاٹائٹس جگر میں سوزش کا سبب بنتا ہے اور اس سے جگر کے کینسر سمیت متعدد صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس وائرس کی پانچ اہم اقسام جن میں A,B,C,D,Eہیں عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس ایک بڑی آبادی کو متاثر کرتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً 1.4ملین افراد مختلف قسم کے وائرس ہیپاٹائٹس سے وفات پاجاتے ہیں۔ پاکستان میں 2008ء کے بعد پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے سروے سے لے کر پنجاب بیورو آف شماریات سروے 2018ء تک پنجاب میں ہیپاٹائٹس سی کا مسلہ 6.7فیصد ہوگیا۔ پاکستان اب تقریباً 14ملین کیسز کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس والے ملک کی حیثیت سے کھڑا ہے اور پنجاب میں سب سے زیادہ آبادی والاصوبہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کی شرح بہت زیادہ ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں ہیپاٹائٹس بی کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔ سال 2030تک پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے کیا یہ مفروضہ ہے یا حقیقت؟ کیا ہم اس ہدف تک پہنچ سکتے ہیں اس حوالے سے آج آپ کو تفصیلاً بتاتے ہیں۔
حکومت پاکستان عالمی ادارہ صحت کے ساتھ پابند ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے کہ 2030ء کے سال پر پہنچنے سے پہلے کم از کم 90فیصد کالے یرقان یعنی ہیپاٹائٹس کے مرض پر قابو پالے۔ اس زمرے میں 2016ء میں 5اہم اہداف طے کئے گئے تھے 2030ء تک 90فیصد تک عوام کی خون کی سکریننگ کرکے یہ جانچ لیں کسی کے جسم میں کالے یرقان کا جراثیم تو موجود نہیں ہے۔ وہ تمام افراد جن کا ٹیسٹ مثبت آئے ان کا بروقت علاج اور معاشرے میں 90فیصد تک کامیاب علاج ہے ان افراد کا جن کے کالے یرقان کے جراثیم مثبت آئے ہیں۔ 90فیصد تک ان تمام عوام کا کنٹرول، انتقال خون کے دوران اس بات کا 90فیصد تک خیال رکھنا ہے کہ دوران استعمال ہونے والی اشیاء کے باعث کالا یرقان ایک تندرست شخص کو منتقل نہ ہوجائے۔ آپ ان اہداف کا تفصیلاًجائرہ لیتے ہیں اور اس حقیقت کی روشنی میں کہ 5سال کا طویل عرصہ اس یاداشت کو دستخط کیے ہوئے پہلے ہی گزار چکے ہیں۔ 2030ء کی دھلائی میں پہنچنے سے پہلے 21کروڑ سے زاہد افراد پر مشتمل قوم جن میں سے کچھ بڑئے ہی دور اطراف کے علاقہ میں اور کچھ بہت ہی گنجان آباد علاقوں میں رہتے ہیں کیا ان میں سے بیشتر افراد کی سکرینگ ہوپائے گی۔ آجکل کے دور میں گوکے کوئی بھی چیز نا ممکن تو نہیں لیکن اتنے زیادہ افراد کے ٹیسٹ کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اگرہرشخص کا شناختی کارڈ اور بے فارم بن سکتا تو کیا بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوسکتا ہے۔؟ اعدادوشمار کے مطابق صرف پنجاب میں ایک کروڑ سے زاہد افراد میں کالے یرقان کا جراثیم پایاجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر ڈیڈھ کروڑ سے زاہد افراد کالے اور پیلے یرقان میں مبتلا ہیں اور اتنے مریضوں کی موجودگی میں کمی سماجی روئیے میں انخلاء اور متعدد مواقع پر ہسپتال میں داخلے کی صورتیں شامل ہوتی ہیں۔ 20سے 30سال کے اس دورانیہ میں طبیعت میں گراتھکن کا احساس بھوک کا نہ لگنا عمومی عوامل میں۔ قانون سازی کی حد تک یقینا پنجاب کی حکومت نے 2015سے 2017تک بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ ہیلتھ کیئر کمیشن ہیپاٹائٹس ایکٹ 2018ء سیف بلڈ ایکٹ اور اتھارٹی 2017 اور ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی 2019کا قیام اس زمرے میں پنجاب حکومت کے قلیل تحسین اقدام اور باقی صوبوں کو بھی اس کی تکلید کرنے کی ضرورت ہے۔ عطائی ڈاکٹروں اور حراحوں کا خاتمہ، تمام میڈیکل سے منسلک چھوٹے اور بڑے ہسپتال اور کلینک کی رجسٹریشن بیوٹی پالرز اور حجام کی تربیت اور رجسٹریشن اس زمرے میں صحیح سمت میں اہم اقدام ہیں ان کے تمام کاروبار والی جگہوں اور صحت عامہ کے جگہوں پرسہولیات کا ایک اچھے معیار پر برقرار رکھنا چیلنج ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ طاقت کے نام پر بلاوجہ ٹیکہ کا استعمال اور ایک ہی سرنج کے ساتھ ایک سے زیادہ فرد کو ٹیکہ کی عادت ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ لوگ خود بھی طاقت کے نام پر ٹیکہ بلاوجہ ذہنی تسلی کے لیے کیمسٹ اور عطائی ڈاکٹروں سے لگواتے ہیں۔ پاکستان ان چند لوگوں میں شامل ہے جہاں پر ہر فرد سالانہ بنیاد پر 5تا 8ٹیکہ بلا ضرورت لگواتا ہے جس کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس بی سی اور ایچ آئی وی کے جراثیم کا پھیلاو ان افراد میں زیادہ ہے جو بلاضرورت ٹیکہ لگواتے ہیں۔ ہر فرد کے لیے الگ سرنج اور اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس میں بلاوجہ کے ٹیکوں، ڈرپ، انتقال خون کے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر ذیشان خان

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں