قوت مدافعت بڑھانے والی چند اہم غذائیں۔

جب سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا آئی ہے تو یہ بات ہر جگہ ہی زیر بحث ہے کہ فلاں ملک کے باشندوں کی قوت مدافعت مضبوط ہے اسی وجہ سے وہاں کورونا نے اتنی تباہی نہیں پھیلائی آپ پاکستان کو ہی دیکھ لیں کہ جہاں کورونا وائرس نے وہ تباہی نہیں پھیلائی جو باقی ممالک میں پھیلائی ہے اب ان ممالک کے لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ مضبوط ہے ان کی قوت مدافعت مضبوط ہے اسی وجہ سے پاکستان میں کیسز کی شرح باقی ممالک سے کم ہے کورونا وائرس سے ہونی والی تباہی کے تدراک اور آئندہ مستقبل میں آنے والی وباوں سے محفوظ رہنے کے لیے لو گ اب اپنی قوت مدافعت میں اضافے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

قوت مدافعت کی اس بحث میں دنیا بھر میں لوگوں نے اب ایسی غذاوں پر توجہ دینی شروع کردی ہے جس سے انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہونے کے بعد انسان کی باڈی میں کسی بھی قسم کے وائرس کے مقابلے کے لیے طاقت پیدا ہوسکے۔تو وہ چند غذائیں جن کے استعمال سے انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ معدنیات اور وٹامن سے بھرپور کھانوں کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں کورونا وبایا دیگر کسی بھی وباسے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین لگوائی اور اپنی صحت کا خیال رکھیں اس کے ساتھ آئرن سے بھرپور غذا کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں سبزیوں میں پالک ایک ایسی سبزی ہے جو آئرن کی کمی کو پورا کرتی ہے کیونکہ پالک میں کیلشیم، سوڈیم اور فاسفورس کی بھی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ پالک کو خون میں ہیمو گلوبن بڑھانے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ خشک میوہ جات جیسے کشمش اور انجیر بھی ایسے میوے ہیں جن میں آئرن وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ان کے استعمال سے جسم میں آئرن کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ خشک میوہ جات کھانے سے خون کے خلیات کی تعداد میں بہتری آتی ہے۔

دالوں کا بکثرت استعمال بھی جسم میں آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے پکی ہوئی دال کے ایک کپ میں 6ملی گرام تک آئرن
موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ پالک کے بعد سبزیوں میں آلو بھی ایک ایسی سبزی ہے جس میں آئرن کی وافر مقدار پائی جاتی ہے ایک کچے آلو میں 3.2ملی گرام آئرن موجود ہوتا ہے۔ کیونکہ آلو فائبر، وٹامن سی، بی چھ اور پوٹاشیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں