مصر پر فرانسیسی مہم انگریز وں کے قسطنطنیہ اور مصر پر حملے۔

مصر میں بوٹا پارٹ کے داخلے سے صورت حال میں اور بھی الجھنیں پیدا ہوگئیں۔ ترکوں کی شکست ان کے نظم و نسق کی روز افزوں ابتری یونانی اور سروی علاقوں کی خود مختیاری کے ولولے حکام کی مسلسل بغاوتیں ان سب سے یورپ کو سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا یقین ہوگیا تھا۔ مجلس جمہوریت فرانس کو خیال ہوا کہ تقسیم ترکی میں حصہ لینے سے پہلے کیوں نہ خود ہی دول یورپ کی شرکت کے بغیر اس کا فیصلہ کردیں۔ اسی خیال کا نتیجہ معرکہ مصر تھا۔ اس میں بہت کچھ کامیابی کی امید تھی بابعالی کو یہ باور کرانا آسان تھا کہ فرانس کے پیش نظر مملوکوں کو سزا دینا اس کی تجارت کو دوبارہ قائم کرنا اور انڈیز کا راستہ پیدا کرنا ہے آخر میں پیسے سے مصر پر کامل قبضہ حاصل کیا جاسکتا تھا لیکن اس مدت میں اور بیردے بائیے کا انتقال ہوگیا۔ اور سفارت کاکام معمولی ایلچی کے سپرد ہوا۔
مملکوں کے ملکی جھگڑوں سے ان کا وجود اور عدم وجودبرابر ہورہا تھا۔ عیسائی آبادی سے امدادی سامان فوج مل سکتی تھی۔ امیر شبیر جو ماردنیوں اور درودزیوں کا سردار تھا شام میں چالیس ہزارکی فوج فراہم کرسکتا تھا اور مصر میں عیسائی آبادی پانچ لاکھ سے بھی زیادہ تھی لیکن ساتھ ہی صلیبی جھنڈا بلند کرنے کی ضرورت تھی۔ جس کے بغیر مشرق میں کسی مہم کی کامیابی ناممکن تھی۔ جمہوریت فرانس نے تو خدا کو اپنے ملک سے نکال دیا تھا۔ بونا پارٹ کے سپاہیوں کو گرجاؤں سے بڑھ کر مسجدوں کاپاس تھا۔ جافے میں فرانسیسیوں نے عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کو قتل کیا تھا اس لیے شام کے عیسائی ان کی مدد پر نہ اٹھے۔
ترکی روس اور انگلستان تینوں آپس میں متفق تھے۔ صدر اعظم نے والیان اناطولیہ وشام کی سرگردگی میں دو فوجیں مجتمع کیں تاکہ مصر میں ایک فرانسیسی کو بھی باقی نہ رکھا جائے۔ اہرام وامبابہ کی جنگوں میں مملوک تباہ کردئیے گئے تھے اور قاہرہ اور تمام مصراعلے پر فاتحین کا قبضہ ہوگیا تھا۔ ابوخیر میں انگریزوں کے ہاتھ فرانسیسی بیڑے کی تباہی سے نپولین کی مدد نہ پہنچ سکی اور وہ فتح کی حالت میں قید تھا۔ مصطفی پاشا نے اٹھارہ ہزار کی فوج کو ابوخیر پر اتارا تاکہ بونا پارٹ پر عقب سے حملہ آور ہو لیکن نوجوان جنرل کی پھرتی سے سر عسکر کا منصوبہ ناکام رہا۔ عثمانیوں کو مورچہ بندی کا موقع دینے سے پہلے ہی بونا پارٹ نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں کاٹ کے رکھدیا (1799ء)اس کامیابی کے ساتھ ہی اس نے شام پر حملہ کیا۔ اور طاعون کے باوجود جس سے اس کی ایک دہائی فوج ضائع ہوئی سینٹ جان آف ایکر کا محاصرہ کیا شہر فتح کرکے یہ نیا سکندر فاتحانہ انداز سے آگے بڑھا۔
انگلستان نے دیوان کو فرانسیسی اتحاد سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی۔ لارڈ ڈکورتھ کی سرکردگی میں ایک دستہ درہ دانیال پر آدھمکا۔ انگریزی سفیر سرارتھبناٹ نے صدر اعظم کو حسب ذیل آخری شرائط پیش کیے۔
1۔ روس و انگلستان سے بابعالی کا اتحاد
2۔ عثمانی بیڑے درہ دانیال کے قلعے اور توپوں کی انگلستان کو فوری حوالگی
3۔ روس کو افلاق و بخدان کی حوالگی
4۔ جنرل سباستیانی کا اخراج اور فرانس سے اعلان جنگ
فرانسیسی سفیر کے بار بار دیوان کو خبردار کرنے کے باوجود کہ درہ دانیال کو توپیں اور قلعے درست حالت میں نہیں اور دشمن کی مدافعت میں سود مند نہیں ہوسکتے دشمن کے حملے سے بچاؤ کی ذرا بھی فکر نہیں کی گئی تھی سینٹ ڈنینز کے کرنل اور درہ دانیال کی حالت پر سلطان کو رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بتلایا گیا تھا کہ راستے کی کوتاہی اور قلعوں کے مشہور عدم استحکام سے فاہدہ اٹھاکر دشمن اگر بہادری سے کام لے اور ہوا بھی اس کے موافق ہوتو آسانی کے ساتھ درہ دانیال کو عبور کرسکتا ہے۔
اس نے اس علاقے میں جو ایک طرف سے کیلیڈ یک بازار اور سلطانیہ کیلیسی کے قلعوں او ردوسری راس نیگارا کے درمیان واقع تھا توپیں چڑھا دینے کا مشورہ دیا را س نیگارا کے پیچھے خشکی کے توپخانے کی حفاظت میں بارہ جہازوں کا ایک بیڑا شطرنج کے طریقے پر دو صفوں میں رہ سکتا تھا۔ راس نیگار اور اس کے ساتھ کی چٹانوں سے جو کجی واقع ہوئی تھی اس سے انگریزی جہاز جو قلعے کو گولہ باری کی زد میں ہوں گے وقت واحد میں صرف ایک ایک کرکے عثمانی بیڑے کے قریب آسکتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں