پلاسٹک کے کچرے سے انسانی غذا تیارکرلی گئی۔

امریکہ کے دو ماہرین نے پلاسٹک کے کچرے کو انسانی غذا میں بدلنے کے لئے ایک ٹیکنالوجی وضع کردی ہے جس کے بعد ان دو ماہرین نے دس لاکھ یورو کا فیوچر انسائٹ پرائز اپنے نام کرلیا۔
ایک امریکی ویب سائٹ زینگر نیوز کے مطابق یونیورسٹی آف الینوئے کے دو پروفیسر انجینئر پروفیسر ٹنگ لو اور مشی گن نے مل کر اس ٹیکنالوجی کو تیار کیا ہے اس ٹیکنالوجی میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خردبینی جاندار استعمال کیے گئے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق پوری دنیا میں لگ بھگ دس کھرب کے قریب مختلف اقسام کے خردبینی جاندار پائے جاتے ہیں مگر سائنسدانوں کی انتھک محنت کے بعد اب تک صرف ایک کروڑ کے قریب ہی یہ جاندار دریافت کیے گیے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جرثوموں اور اس کے ساتھ وہ تمام خردبینی جاندار جن میں یہ صلاحیت دیکھی گئی ہے کہ ان میں تھوڑی بہت تبدیلی کے بعد انہیں ا س قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ سخت سے سخت بے جان پلاسٹک اور نامیاتی مادوں کو مختلف قسم کے مرکبات میں تبدیل کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ امریکہ کہ ان دو ماہرین نے یہی کیا جسے ”مائیکروبیئل سنتھیٹک بیالوجی“ کہا جاتا ہے۔ اب ان ماہرین نے کیا کہ سب سے پہلے وہ جین تلاش کیے جو اس کام کو بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں اس کے بعد جرثوموں میں یہ جین اس ٹیکنیک کے ساتھ شامل کیے کہ وہ پلاسٹک کی مختلف سخت سے سخت اقسام کو غذائی پروٹین میں تبدیل ہونے لگے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تلف شدہ پلاسٹک سے غذائی پروٹین بنانے والی یہ ٹیکنالوجی فلحال اپنے ابتدائی مراحل میں ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ اسے صنعتی پیمانے تک ترقی دی جائے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تک دنیا بھر میں پلاسٹک کے کچرے کی مجموعی مقدار 37کروڑ ٹن کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے اس کے ساتھ ہی ہر سال 8ارب ٹن پلاسٹک سمندروں میں بہا دیا جاتا ہے جو بعد میں سمندری ماحول اور جانداروں کی زندگی کے لیے انتہائی خطرے کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی ہماری امیدوں پر پورا اتر گئی تو اس سے دو فائدئے ہوں گے ایک تو دنیا بھر سے آلودگی ختم ہوگی اور دوسرا دنیا بھر سے غذائی قلت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں